| |
|
|
ماڈل گاؤں مخیّر حضرات اور رفاہی اداروں کی مدد سے تعمیر کیے جائیں گے۔
|
| |
|
|
گھروں کی تعمیر کے لیے حکومت کی بجائے مخیّر حضرات اور رفاہی ادارے خود رقم خرچ کریں گے۔
|
| |
|
|
دلچسپی ظاہر کرنے والے مخیّر حضرات اور عطیہ کنند گان اپنی پسند کے گاؤں چنیں گے۔
|
| |
|
|
کسی بھی سرکاری ٹھیکے دار کے زریعے کام نہیں ہوگا۔
|
| |
|
|
عطیہ کنندگان اور فلاحی تنظیمیں گاؤں کی تعمیر اپنے ٹھیکے داروں کے زریعے کریں گے یا پھر پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کی معاونت حاصل کریں گے۔
|
| |
|
|
آپشن 1. پی آر ایس پی اپنے ٹھیکے داروں سے کام کرائے گی اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کا کردار بھی ادا کرے گی اور براہ راست گاؤں کی کی تنظیم کے زیرنگرانی کام کرے گی
آپشن 2. عطیہ کنند گان اپنے ٹھیکے داروں کے زریعے کام کرسکیں گے اور پی آر ایس پی اس صورت میں بھی کمیونٹی کو متحرک کرنے کا کردار ادا کرے گی۔ لیکن گاؤں کی تنظیم ٹھیکے دار کے کام کی نگرانی کرے گی۔
|
| |
|
|
اگر کئی گاؤں میں سے صرف ایک گاؤں کا انتخاب کرنا ہو تو کمیونٹی خفیہ رائے دہی کے زریعے اس کا فیصلہ کرے گی۔
|
| |
|
|
عطیہ کنندہ اپنے آرکیٹیک سے کام لے سکے گا یا پھر پی ڈی ایم اے سے آرکیٹیک کی خدمات حاصل کرسکے گا۔
|
| |
|
|
بحالی اور تعمیرنو کا کام کمیونٹی کی شرکت کے ساتھ کیا جائے گا۔
|