← تعمیراتی منصوبہ جات
   
  • ماڈل گاؤں مخیّر حضرات اور رفاہی اداروں کی مدد سے تعمیر کیے جائیں گے۔

       
  • گھروں کی تعمیر کے لیے حکومت کی بجائے مخیّر حضرات اور رفاہی ادارے خود رقم خرچ کریں گے۔

       
  • دلچسپی ظاہر کرنے والے مخیّر حضرات اور عطیہ کنند گان اپنی پسند کے گاؤں چنیں گے۔

       
  • کسی بھی سرکاری ٹھیکے دار کے زریعے کام نہیں ہوگا۔

       
  • عطیہ کنندگان اور فلاحی تنظیمیں گاؤں کی تعمیر اپنے ٹھیکے داروں کے زریعے کریں گے یا پھر پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کی معاونت حاصل کریں گے۔

       

     

        آپشن 1. پی آر ایس پی اپنے ٹھیکے داروں سے کام کرائے گی اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کا کردار بھی ادا کرے گی اور براہ راست گاؤں کی کی تنظیم کے زیرنگرانی کام کرے گی

        آپشن 2. عطیہ کنند گان اپنے ٹھیکے داروں کے زریعے کام کرسکیں گے اور پی آر ایس پی اس صورت میں بھی کمیونٹی کو متحرک کرنے کا کردار ادا کرے گی۔ لیکن گاؤں کی تنظیم ٹھیکے دار کے کام کی نگرانی کرے گی۔

       
  • اگر کئی گاؤں میں سے صرف ایک گاؤں کا انتخاب کرنا ہو تو کمیونٹی خفیہ رائے دہی کے زریعے اس کا فیصلہ کرے گی۔

       
  • عطیہ کنندہ اپنے آرکیٹیک سے کام لے سکے گا یا پھر پی ڈی ایم اے سے آرکیٹیک کی خدمات حاصل کرسکے گا۔

       
  • بحالی اور تعمیرنو کا کام کمیونٹی کی شرکت کے ساتھ کیا جائے گا۔



    ماڈل نمبر 1 ماڈل نمبر 2
  • سرکاری اراضی استعمال کی جائے گی۔

  • تباہ شدہ گاؤں کی اصل موجودہ اراضی استعمال کی جائے گی۔

  • یہ اُن گاؤں کے لیے ہے جہاں اصل زمین پر تعمیر نو کا کام نہیں ہوسکتا

  • تمام تباہ شدہ مکانات کو اُن کی اصل جگہ پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔

  • اصل جگہ کو ریت سے بھر دیا جائے گا ورنہ پھر سیلاب کی نذر ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے

  • گلیوں کی درستگی اور مشترکہ رقبے کی فراہمی کے لیے معمولی ردوبدل کیا جاسکے گا

  • نئی جگہ اصل جگہ کے بہت قریب ہوگی۔


    ماخذ: حکومت پنجاب

    آخری تازہ کاری: 22-10-2010
    پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی پورڈ ای میل: floodrelief@punjab.gov.pk
    پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی پورڈ @ 2010
    تکمیل کار: HOSPEX Consulting Services
    پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اربن یونٹ
    توجہ! کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر، اردو ورژن کی تازہ کاری کچھ تاخیر سے دستیاب ہو گی۔