← پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کا لائحہ عمل

1۔ پینے کے پانی کی سہولیات

 


سیاق و سباق
پنجاب تقریباً نو کروڑ لوگوں کی آبادی کا صوبہ ہے۔ اس آبادی کے پچاس فیصد سے کم لوگوں کو پائپوں کے زریعے فراہم کردہ پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے۔ دیہی آبادی میں پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے والوں کی تعداد 30 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس لیے اس صوبے میں پینے کے صاف پانی کے لیے کنویں کے پانی پر بڑا انحصارکیا جاتا ہے۔

مزید تفصیل

2۔ لائیو سٹاک

 

 


سیاق و سباق
لائیوسٹاک کا شعبہ ملک کی دیہی معیشت کے بہبود کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے جو زراعت کے جی ڈی پی کا تقریباً 53.4 فیصد اور قومی آمدنی کا تقریباً 11 فیصد ہوتا ہے۔ تقریباً 30 سے 35 ملین لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ لائیوسٹاک کے شعبے سے منسلک ہیں اور 40 فیصد کسانوں کی آمدنی اسی سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے شعبہ ہائے زندگی کی طرح یہ شعبہ بھی حالیہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہواہے۔

لائیو سٹاک میں نقصان کا تخمینہ 780.62 ملین روپے ہے جس کی تفصیل یہ کہ 4193 جانور مرے یا لاپتہ ہوئے تقریباً 663 مرغی خانے تباہ ہوئے ۔ 9 سول ویٹرنری ہسپتال، 65 سول ویٹرنری ڈسپنسریاں، 2 مصنوعی نسل کشی کے مراکز اور 7 رہائش گاہیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ متاثرہ گاؤں میں کسانوں کے جانوروں کے شیڈز/باڑوں اورمویشی خانوں کو پہنچنے والے نقصانات کے جائزے کے لیے ایک سروے کیا جارہاہے جس میں ان کی بحالی/تعمیرنو پر اُٹھنے والے اخراجات کے تخمینوں کی اطلاع دی جائے گی۔



متعلقہ محمکہ نقصان رسیدہ تعمیرات کی تعمیرنو کے لیے ایک جامع سکیم تیار کرے گا۔ تباہ شدہ تعمیرات پر اٹھنے والے اصل اخراجات کی تفصیل پانی کی مکمل نکاسی کے بعد جمع کی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ متاثرہ کسانوں کو ریلیف پہنچائی جائے، اُن کے جانوروں کو مناسب خوراک فراہم کی جائے اور کمزور ہوئی حیوانی آبادی کو چارا فراہم کیا جائے۔ ممکن ہے کہ درکار فنڈز متاثرہ ضلع کی انتظامیہ کی صوابدید پر رکھے جائیں جہاں ہر زمرے سے متعلق الگ الگ سکیمیں معمول کے مطابق تیار کی جائیں ۔

بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، کسانوں کے نقصان کے ازالے اور جانوروں کے مختلف مسائل سے نبٹنے کے لیے تین مراحل پر مشتمل طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ تباہ شدہ تعمیرات کی تعمیرنو اور بحالی کا کام محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے طے شدہ معیارات کے مطابق ہوگا۔عمارتوں کی تعمیر اور سکیموں کی تکمیل کا کام متعلقہ ضلعی حکومتیں کریں گی۔کسانوں کی شکایات کو نوٹ کیا جائے گا اور متعلقہ ضلع کے لائیوسٹاک آفیسر اپنے عملے کے ساتھ ان کا ازالہ کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

مزید تفصیل

 

 

 

 

3۔ سکول ایجوکیشن

 


سیاق و سباق
سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 603 سرکاری سکول مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 2317 سکولوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ ہر سکول کے نقصان اور تخمینہ جات پر مشتمل مجوزہ (از ورلڈ بینک اسیسمنٹ ٹیم)گوشوارہ تیار کرنے کےلیے محکمہ تعلیم کے تمام تحصیل افسران کو ہدایت کر دی گئی ہے۔ یہ عمل 10 اکتوبر 2010 تک مکمل ہو جائے گا۔ تاہم موجودہ لاگت کی بنیاد پر تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔ تباہ شدہ سکولوں کی تعمیرِنو کے لیے ہنگامی طور پر 6 ارب روپے درکار ہیں۔

سرکاری سکولوں کو بے گھر لوگوں کےلیے ابتدائی پناہ گاہ قرار دیا گیا تھا اور اسی مقصد کے تحت 2064 سکولوں کو اس وقت سیلاب متاثرین کے لیےریلیف کیمپوں (باقاعدہ/بےقاعدہ) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

طلبہ کے تعلیمی عمل پر بنا کوئی سمجھوتہ کیے، تمام سرکاری سکول بحالی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ سکولوں کے ہیڈماسٹر صاحبان کو بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا ذمہ دار بنایا گیا ہے مزیدبرآں سکول کے طلبہ اور سٹاف کو عطیات اکٹھا کرنے کی مہم میں متحرک کیا جائے گا۔دیگر فوائد جن میں سیلاب سے متاثرہ سکولوں میں درسی کتب کی دوبارہ تقسیم کرنا، ریلیف کیمپوں اور مکمل تباہ شدہ سکولوں میں میں "سکول ان باکس" کٹوں کی تقسیم(مہیاکردہ از یونیسف)، مکمل تباہ شدہ سکولوں کےلیے عارضی پناہ گاہوں کی فراہمی، پینے کے صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کی فراہمی اورسکول کونسلوں کو متحرک کرناشامل ہے بھی باہم پہنچائے جائیں گے۔

مزید تفصیل

 

 

 

 


ماخذ: پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی

آخری تازہ کاری: 30-09-2010
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی پورڈ ای میل: floodrelief@punjab.gov.pk
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی پورڈ @ 2010
تکمیل کار: HOSPEX Consulting Services
پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اربن یونٹ
توجہ! کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر، اردو ورژن کی تازہ کاری کچھ تاخیر سے دستیاب ہو گی۔