سیاق و سباق
لائیوسٹاک کا شعبہ ملک کی دیہی معیشت کے بہبود کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے جو زراعت کے جی ڈی پی کا تقریباً 53.4 فیصد اور قومی آمدنی کا تقریباً 11 فیصد ہوتا ہے۔ تقریباً 30 سے 35 ملین لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ لائیوسٹاک کے شعبے سے منسلک ہیں اور 40 فیصد کسانوں کی آمدنی اسی سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے شعبہ ہائے زندگی کی طرح یہ شعبہ بھی حالیہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہواہے۔
لائیو سٹاک میں نقصان کا تخمینہ 780.62 ملین روپے ہے جس کی تفصیل یہ کہ 4193 جانور مرے یا لاپتہ ہوئے تقریباً 663 مرغی خانے تباہ ہوئے ۔ 9 سول ویٹرنری ہسپتال، 65 سول ویٹرنری ڈسپنسریاں، 2 مصنوعی نسل کشی کے مراکز اور 7 رہائش گاہیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ متاثرہ گاؤں میں کسانوں کے جانوروں کے شیڈز/باڑوں اورمویشی خانوں کو پہنچنے والے نقصانات کے جائزے کے لیے ایک سروے کیا جارہاہے جس میں ان کی بحالی/تعمیرنو پر اُٹھنے والے اخراجات کے تخمینوں کی اطلاع دی جائے گی۔
متعلقہ محمکہ نقصان رسیدہ تعمیرات کی تعمیرنو کے لیے ایک جامع سکیم تیار کرے گا۔ تباہ شدہ تعمیرات پر اٹھنے والے اصل اخراجات کی تفصیل پانی کی مکمل نکاسی کے بعد جمع کی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ متاثرہ کسانوں کو ریلیف پہنچائی جائے، اُن کے جانوروں کو مناسب خوراک فراہم کی جائے اور کمزور ہوئی حیوانی آبادی کو چارا فراہم کیا جائے۔ ممکن ہے کہ درکار فنڈز متاثرہ ضلع کی انتظامیہ کی صوابدید پر رکھے جائیں جہاں ہر زمرے سے متعلق الگ الگ سکیمیں معمول کے مطابق تیار کی جائیں ۔
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، کسانوں کے نقصان کے ازالے اور جانوروں کے مختلف مسائل سے نبٹنے کے لیے تین مراحل پر مشتمل طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ تباہ شدہ تعمیرات کی تعمیرنو اور بحالی کا کام محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے طے شدہ معیارات کے مطابق ہوگا۔عمارتوں کی تعمیر اور سکیموں کی تکمیل کا کام متعلقہ ضلعی حکومتیں کریں گی۔کسانوں کی شکایات کو نوٹ کیا جائے گا اور متعلقہ ضلع کے لائیوسٹاک آفیسر اپنے عملے کے ساتھ ان کا ازالہ کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
|